29 اکتوبر 2024 - 10:11
غاصب فوج نے عراق کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی ہے، عراق ایران کے ساتھ کھڑا ہے، عراقی مندوب

اقوام متحدہ میں عراق کے مستقل مندوب کے نائب نے ایران پر صہیونی جارحیت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: غاصب صہیونی فوج نے عراق کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور يواین چارٹر کی فاش خلاف ورزی کرنے والی غاصب ریاست کو سیاسی تحفظ دینا بین الاقوامی قانون اور یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ جس کا نتیجہ صہیونی جارحیتوں کا راستہ روکنے کے حوالے سے سلامتی کونسل کی بے بسی کی صورت میں برآمد ہؤا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، اقوام متحدہ میں عراق کے نائب مندوب کے نائب عباس کاظم عبید نے ایران پر صہیونی جارحیت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

مغرب کی طرف سے غاصب صہیونی ریاست کی سیاسی مدد کرنے کی وجہ سے اسرائیل کی گستاخیوں میں اضافہ ہؤا ہے اور اسی بنا پر اس نے خطے پر حملے شدیدتر کر دیئے ہیں۔

یہ تشدد آمیز رویہ مقبوضہ فلسطین سے شروع ہؤا اور اب لبنان، شام اور ایران تک پھیل گیا ہے۔ غاصب ریاست کی فوج خطے کے ممالک کی حدود کو مسلسل پامال کر رہی ہے۔ عراق نے ہمیشہ سے صہیونی جرائم پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر خبردار کیا ہے اور یہ اقدامات تمام حدود کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر ذمہ داری کے ساتھ جاری رہے ہيں۔

عراق اسلامی جمہوریہ ایران پر صہیونی حمکے کی مذمت کرتا ہے، اور غاصب ریاست نے اس حملے کے ساتھ ایران کی علاقائی سالمیت، بین الاقوامی قوانین اور يو این چآرٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔ عراق ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ اس کے جنگجویانہ اقدامات خطے کے استحکام کو بری طرح مجروح کر رہا ہے۔

عراق غزہ اور لبنان میں جنگ کے مطالبے پر اصرار کرتا ہے، عراق ایران پر جارحیت کرنے والے صہیونی طیاروں کی طرف سے عراقی فضائی حدود ک خلاف ورزی کی شدیدترین الفاظ میں، مذمت کرتا ہے۔ غاصب اسرائیلی فوج نے عراق کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی ہے۔ حکومت عراق اقوام متحدہ کے توسط سے ان جارحیتوں کے خلاف اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ہم اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے پابند ہیں، کسی بھی ملک کو دوسرے ملک، خصوصا ان ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جن کے ساتھ ہمارے تعمیری تعلقات قائم ہیں۔

ہم بات چیت کے ذریعے خطے کے استحکام اور خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کا سد باب کرنے کا خواہاں ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنے فرائض پر عمل کرکے عالمی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنا دے۔ اسرائیل کی جنگجویانہ پالیسیوں کا راستہ روکنے کے لئے ضروری اقدامات عمل میں لائے، اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنائے۔ اور عراق کو اس طرح کے اقدامات نہ دہرائے جانے کی ضمانت فراہم کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110